صارفین کو گمراہ کرنے کا الزام، میٹا پر 25 ارب ڈالر کا تاریخی جرمانہ عائد

ایک جج نے بدھ کے روز میٹا پلیٹ فارمز کو امریکی ریاست نیو میکسیکو کو 25 ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ جیوری کی جانب سے اس کمپنی کو صارفین کو گمراہ کرنے کا قصوروار پائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی صدارتی مہم میں شامل ایک سیاسی مشاورتی ادارے کی جانب سے لاکھوں فیس بک صارفین کا ڈیٹا ان کی رضامندی کے بغیر حاصل کرنے کے الزامات کے تناظر میں دائر کیا گیا تھا۔

 

نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز کا کہنا تھا کہ امریکی تاریخ میں کسی ایک ریاست کی طرف سے کمپنی کے خلاف سنایا جانے والا یہ سب سے بڑا، یا کم از کم سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک ہے۔

 

تحریری حکم نامے میں کے مطابق فیس بک کی برسوں پر محیط غلط کاریاں، جو منظم طریقے سے عوام تک پہنچائی گئیں، فیس بک کے بنیادی کاروباری طریقوں کی جڑ پر وار کرتی ہیں۔ جج میتھیو نے یہ بھی پایا کہ ریاستی قانون کی رو سے 219 ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ بنتا تھا، تاہم انہوں نے اس رقم کو کم کر کے 25 ارب ڈالر کر دیا۔

 

یہ فیصلہ دیگر 6 ریاستوں کی جانب سے کیمبرج اینالیٹیکا (متعلقہ مشاورتی ادارے) سے متعلق مقدمات کو 45.9 کروڑ ڈالر میں طے کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ طے شدہ رقم اس 17.1 ارب ڈالر کے کثیرالجہتی تصفیے کا حصہ تھی جو میٹا نے اگست میں ریاستوں کے اس دعوے کو حل کرنے کے لیے طے کیا تھا کہ کمپنی کے پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچایا ہے۔

 

نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل نے 2021 میں میٹا کے خلاف اس انکشاف کے بعد مقدمہ دائر کیا تھا کہ کیمبرج اینالیٹیکا نے فریق ثالث (تھرڈ پارٹی) کی ایک ایپ کے ذریعے فیس بک کے 8 کروڑ 70 لاکھ تک صارفین کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کیا تھا۔

 

ریاست نے میٹا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے نیو میکسیکو میں فیس بک صارفین سے اس بات پر جھوٹ بولا کہ ان کے ڈیٹا تک کس کی رسائی ہے، کمپنی پلیٹ فارم پر پوسٹ کی جانے والی نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات سے کیسے نمٹتی ہے، اور اس کی دیگر داخلی پالیسیاں کیا ہیں۔

 

ریاست کے مطابق، کمپنی یہ جانتی تھی کہ فریق ثالث کو صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک وسیع رسائی حاصل ہے، اور جب کمپنی کے مالی مفادات کا معاملہ ہوتا تھا تو وہ نفرت انگیز تقاریر یا دیگر نقصان دہ مواد کو برداشت کرتی تھی۔

 

مشاورتی ادارہ کیمبرج اینالیٹیکا، 2016 میں ٹرمپ کی کامیاب صدارتی مہم کے لیے کام کرتا تھا اور اس نے ووٹرز کی پروفائلنگ اور ہدف بنانے کے مقاصد کے لیے لاکھوں فیس بک اکاؤنٹس سے ذاتی معلومات حاصل کی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں