انہوں نے کہا کہ نجکاری کے عمل میں شفافیت، کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ترجیح دی جائے گی، پی پی پیز کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی، نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ نجی شعبے کو آگے لے جانے کا اہم ذریعہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کیلئے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط بنانا ہوگی، معاشی استحکام مشکل فیصلوں کے نتیجے میں حاصل ہوا، اسے مستقل بنانا ہے، پاکستان کو دوبارہ عروج و زوال کے معاشی چکر میں نہیں جانے دیں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ مجموعی خسارہ 12.5 فیصد سے کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا ہے، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ایف بی آر کی آمدن میں گزشتہ چند برسوں کے دوران 40 فیصد اضافہ ہوا، ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہوگیا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ٹی سروسز کی برآمدات گزشتہ مالی سال 4.6 ارب ڈالر رہیں، آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز نے 1.6 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا، اشیاء کی برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر پر برقرار ہیں، اس شعبے میں مزید کام کرنا ہوگا، توانائی، سرکاری اداروں، ٹیکس اور نجکاری کے شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں۔