چیئرمین سینیٹ کا جامعات میں مؤثر قیادت، بہتر حکمرانی اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی پر زور

اسلام آباد، 20 اگست 2026ء: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مؤثر قیادت، شفاف حکمرانی، اسٹریٹجک منصوبہ بندی، تحقیق، جدت اور اختراع کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار چیئرمین سینیٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے زیر اہتمام ”اسٹریٹجک پلاننگ اور قیادت میں اعلیٰ معیار“ کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جامعات تحقیق، علمی و فکری ترقی، تنقیدی سوچ اور قیادت سازی کے مراکز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات نوجوان نسل کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن، بالخصوص نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن، کو آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخواہ اور راولپنڈی ریجن سے جامعات کے انتظامی سربراہان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام بروقت اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مؤثر قیادت، بہتر حکمرانی اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے عزم کا عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز محض انتظامی ذمہ داریاں ادا کرنے والے عہدیدار نہیں بلکہ اپنے اداروں کے قائدین ہیں۔ آج کیے جانے والے فیصلے آنے والے برسوں میں تعلیم، تحقیق، جدت اور قومی قیادت کے معیار پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اسٹریٹجک منصوبہ بندی محض ایک انتظامی سرگرمی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ترقی اور کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ مضبوط جامعات کے لیے واضح وژن، شفاف حکمرانی، وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال اور تحقیق و جدت کو فروغ دینے والا ماحول ضروری ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے پروگرام میں خواتین کی جامعات کی شرکت کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا قومی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور قیادت پر سرمایہ کاری دراصل خاندانوں، معاشرے، اداروں اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے مترادف ہے۔ پاکستان بھر میں خواتین اساتذہ اور علمی و تعلیمی قیادت نے اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے اور ان کی خدمات کا تسلسل کے ساتھ اعتراف اور حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا گہرا تعلق اس کی جامعات کی مضبوطی سے ہے۔ ہماری اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں کو تحقیق، جدت، کاروباری سرگرمیوں اور پالیسی سازی کے مضبوط مراکز میں تبدیل کرنا ہوگا۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بطور چیئرمین سینیٹ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم قومی یکجہتی اور پائیدار ترقی کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے تمام علاقوں میں قائم جامعات سماجی ہم آہنگی کے فروغ، جمہوری اقدار کے استحکام اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان سمیت ملک کے ہر خطے کے تعلیمی ادارے ایک مضبوط، خوشحال اور متحد پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ادارہ جاتی قیادت اور اسٹریٹجک استعدادِ کار میں اضافے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرامز جامعات کے سربراہان کو تجربات کے تبادلے، بہتر حکمرانی کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے اور ملکی ترجیحات و عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ حکمتِ عملی وضع کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے تمام وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز پر زور دیا کہ وہ اپنی جامعات میں اعلیٰ معیار، باہمی تعاون، شمولیت اور جدت کی ثقافت کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی جامعات کی ضرورت ہے جو تحقیق و دریافت کی حوصلہ افزائی کریں، اختراع اور کاروبار کو فروغ دیں اور نوجوانوں کو ذمہ دار شہری اور مستقبل کے قائدین بننے کے لیے تیار کریں۔
چیئرمین سینیٹ نے پروگرام کے تمام شرکاء اور منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس نشست میں ہونے والی گفتگو، تجربات کے تبادلے اور سفارشات سے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں