مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو سب سے پہلے اپنی صوبائی حکومت سے سوال کرنا چاہیے کہ وفاقی حکومت سے ملنے والے وسائل تعلیم، صحت اور اداروں کی مضبوطی کے لیے کس طرح استعمال کیے گئے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اس وقت دہشتگردی سمیت سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور بعض علاقوں میں شہریوں کے لیے معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں، ان کے بقول حکومت کی ترجیح عوام کو ان مشکلات سے نکالنا ہونی چاہیے۔
امیر مقام نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں لوگ اپنے پیاروں سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ سوات، جنوبی اضلاع اور دیگر علاقوں میں بھی شہری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج اور لانگ مارچ کے بجائے دہشتگردی سمیت عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے طویل عرصے تک خیبرپختونخوا میں حکومت کی، تاہم اب اپنی کارکردگی کے بجائے ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی سیاست عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے تو اسے خیبرپختونخوا کے عوام کو صوبے کو ملنے والے وسائل کے استعمال اور عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کرنا چاہیے