وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب کے آرٹیفشل انٹیلی جنس سنٹر کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے قانون کی پاسداری ہر طبقے پر یقینی بنانے کی کوشش کی، تاہم قانون دوسروں پر لاگو ہو تو خوشی ہوتی ہے لیکن خود عملدرآمد کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ عوام کو ہیلمٹ کی پابندی کا عادی بنانا ایک مشکل فیصلہ تھا، موٹرسائیکل سواروں کے ساتھ حادثات پیش آئیں تو دکھ ہوتا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، لیکن تنقید سے بچنے کے لیے وہ بھی آرام سے بیٹھ سکتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ ہراسانی کے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں، ایسے واقعات دیکھ کر انسانیت سے اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ محفوظ ماحول فراہم کرنا آسان کام نہیں، خود کو خطرے میں ڈال کر مشکل فیصلے کیے ہیں۔ آج سب کی نظر پنجاب پر ہے، صوبے میں امن و امان بہتر بنانے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے گئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق دہشتگردوں کے پاس نائٹ وژن کیمرے تھے، حکومت نے اپنی پولیس کو بھی نائٹ وژن کیمرے فراہم کیے جبکہ صوبائی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے چیک پوسٹیں قائم کی گئیں۔
مریم نواز نے کہا کہ ماضی میں کچے کے علاقے سے رہزنی اور دیگر جرائم کے کیسز رپورٹ ہوتے تھے، تاہم آج کچے کا علاقہ کرائم فری ہے اور وہاں ریاست کی رٹ قائم ہوچکی ہے۔