سپریم کورٹ نے سندھ پولیس اہلکاروں کی سینیارٹی سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے نظرثانی درخواستیں منظور کرکے 2024 کا سابقہ حکم واپس لے لیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سندھ پولیس اہلکاروں کو سنے بغیر ان کی سینیارٹی تبدیل کرنا آرٹیکل 10 اے کے منافی ہے۔ قواعد کےخلاف دی گئی سینیارٹی بھی متاثرہ ملازم کو سنے بغیر تبدیل نہیں کی جاسکتی۔
فیصلے کے مطابق سینیارٹی ملازم کا قیمتی حق ہے جس سے اس کا کیریئر اور ترقی کے امکانات وابستہ ہیں۔ تاہم سینیارٹی خودکار ترقی کی ضمانت نہیں۔ اس کا تعین متعلقہ قانون اور قواعد کے مطابق ہونا چاہیے۔ سماعت کا موقع نہ دینے کا اہم نکتہ سابقہ بینچ کی توجہ سے اوجھل رہا۔
عدالت نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ محکمہ درخواست گزاروں سمیت دیگر متاثرین کو سن کر وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری کرے۔ اگر اعتراضات درست اور سنیارٹی میں تبدیلی خلاف قانون ثابت ہو تو دو ماہ کے اندر نئی فہرست جاری کی جائے ۔ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔ بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی شامل تھے۔