قطر سے ایل این جی سپلائی بحال نہ ہونے پر گیس کی طلب پوری کرنا بڑا چیلنج ہوگا، وزارت پیٹرولیم نے ونٹر گیس پلان پرکام شروع کر دیا۔ قطر سے سپلائی بحال نہ ہونے کی صورت میں اسپاٹ کارگو منگوانےکی تجویز زیرغور ہے۔ ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق سردیوں میں مجموعی طور پر21 ایل این جی کارگو درکار ہوںگے، اسپاٹ کارگو قطری ایل این جی کی نسبت17 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگا پڑے گا، ایل این جی اسپاٹ کارگو کی قیمت 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں پڑتی ہے۔ قطرسے طویل المدتی کنٹریکٹ کےتحت 13 سے16 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پڑتا ہے۔ وزارت پیٹرولیم ونٹر گیس پلان کی منظوری وفاقی حکومت سے لے گی، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ونٹرگیس پلان پرعملدرآمد ہوگا۔ پاکستان سردیوں میں گیس کی قلت کا 40 فیصد ایل این جی کے ذریعے پورا کرتا ہے، قطرسےایل این جی کی عدم بحالی مہنگا اسپاٹ کارگو منگوانے سے صارفین پر اضافی پڑے گا۔

سپریم کورٹ نے سندھ پولیس اہلکاروں کی سینیارٹی سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے نظرثانی درخواستیں منظور کرکے 2024 کا سابقہ حکم واپس لے لیا۔

 

عدالت نے قرار دیا کہ سندھ پولیس اہلکاروں کو سنے بغیر ان کی سینیارٹی تبدیل کرنا آرٹیکل 10 اے کے منافی ہے۔ قواعد کےخلاف دی گئی سینیارٹی بھی متاثرہ ملازم کو سنے بغیر تبدیل نہیں کی جاسکتی۔

 

فیصلے کے مطابق سینیارٹی ملازم کا قیمتی حق ہے جس سے اس کا کیریئر اور ترقی کے امکانات وابستہ ہیں۔ تاہم سینیارٹی خودکار ترقی کی ضمانت نہیں۔ اس کا تعین متعلقہ قانون اور قواعد کے مطابق ہونا چاہیے۔ سماعت کا موقع نہ دینے کا اہم نکتہ سابقہ بینچ کی توجہ سے اوجھل رہا۔

 

عدالت نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ محکمہ درخواست گزاروں سمیت دیگر متاثرین کو سن کر وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری کرے۔ اگر اعتراضات درست اور سنیارٹی میں تبدیلی خلاف قانون ثابت ہو تو دو ماہ کے اندر نئی فہرست جاری کی جائے ۔ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔ بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں